پاکستان اسلام کی تجربہ گاہ:۔
قائد اعظمؒ نے پاکستان کو اسلام کی ایک تجربہ گاہ کہا ہے جہاں مسلمان قرآن و حدیث کی روشنی میں ایک ایسے طرز زندگی کو رواج دیں گے۔ جو دین اور دنیا دونوں دنیاؤں میں ان کی فلاح و بہبود کا ضامن ہو گا۔ اس تجربہ گاہ کی ترجمانی کے لئے اردو زبان وہ فریضہ سرانجام دے سکتی ہےجو وقت کے ابلتے ہوئے منظر نامے کا اظہاریہ ہو سکتا ہے۔ قائد اعظم کے فرامین کی روشنی میں اردو ہماری قومی زبان کے نفاذ کی صورتیں جو کہ اس ضمن میں متشکل اور مرتب ہو سکتی ہیں، ان کی تعبیر کے کرینے حسب ذیل ہیں۔
اردو کی قومی اور سرکاری حیثیت:۔
قائد اعظمؒ نے پاکستان کے تمام صوبوں کی زبانوں کی اہمیت اور ان کی خود مختاری کو تسلیم کرتے ہوئے، اردو ہماری قومی زبان کی قومی اور سرکاری حیثیت کی طرف توجہ مبذول کروائی ہے۔
پاکستان کی سالمیت کی ضامن:۔
ہر ملک کی ایک سرکاری زبان ہوتی ہےاور وہی زبان اس قوم کی پہچان اور شناخت بھی ہوتی ہے اور اس کی زندگی کے مختلف اور متنوع رویوں کی عکاس بھی، کیونکہ زبان کے بغیر کوئی بھی قوم اپنی سالمیت کو قائم نہیں رکھ سکتی۔ اردو ہماری قومی زبان پاکستان کی سالمیت کی ضامن ہے۔ قائداعظمؒ کے الفاظ میں ایک مشترکہ سرکاری زبان کے بغیر کوئی قوم باہم متحد نہیں ہو سکتی اور نہ ہی کوئی کام سرانجام دے سکتی ہے۔ پس جہاں تک پاکستان کی سرکاری زبان کا تعلق ہے اسے اردو ہی ہونا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: ۔ روشنی پیدا کرنے والے پودے۔سائنس کی اک نئی ایجاد
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ قائداعظمؒ کے ملک میں قائد کےفرامین کی حکم عدولی نہ کی جائے، بلکہ انہیں تسلیم کرتے ہوئے اردو کے مقام و مرتبہ کے مطابق اسے زندگی کے تمام شعبوں میں رواج دیا جائے۔
فکری سرمائے اور تہذیبی آثار کی واحد نمائندہ زبان:۔
اردو مسلمانوں کی زبان ہے۔ اسے برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں نے رائج کیا، اسے برصغیر میں رہنے والے تمام مسلمان باآسانی سمجھتے ہیں۔اور اس میں اپنے ماضی الضمیر کا اظہار کرتے ہیں۔
قائداعظمؒ کے نزدیک یہ زبان اسلامی ثقافت اور اسلامی روایت کے فکری سرمائے اور تہذیبی آثار کی واحد نمائندہ زبان ہے۔ اس کا نفاذ اور اس کی ترویج نہ صرف ملک کے اتحاد اور سالمیت کی ظامن ہو گی، بلکہ یہ تمام اسلامی ملکوں کو قریب لانےاور انہیں ایک دوسرے کے ساتھ وابستہ کرنے کا فریضہ بھی انجام دے سکتی ہے۔ اگر قائداعظمؒ کے اس نقطے کی وضاحت کی جائے تو ہم آسانی سے اردو زبان کی وساطت سے فارسی، عربی، اور ترک زبان کی ان جڑوں کو تلاش کر سکتے ہیں جو اردو کی بنیاد میں کارفرما ہیں۔ یعنی اردو کے ضمیر میں مذکورہ بالا زبانوں کا رنگ اور آہنگ شامل ہے۔ ان زبانوں کے ہزار ہا الفاظ اردو میں موجود ہیں۔
مسلم زبانوں کا باہمی تعلق:۔
ذرا سی کاوش سے ہم دوسرے اسلامی ملکوں جن میں مذکورہ بالا زبانیں بولی جا رہی ہیں۔ان کے ماضی الضمیر کے سمجھنے پر قادر ہو سکتے ہیں۔ ان ممالک کے مسلمان بھی ہمارے طرزِ احساس کا ادراک کر سکتے ہیں۔ مسلم زبانوں کا یہ باہمی رشتہ اور ناطہ مسلم امہ کی قربت اور یگانگت کا باعث بن سکتا ہے۔
اسے ضرور پڑھیں: ۔ مائیکرو سافٹ ورڈ ۔ بہترین کی بورڈ شارٹ کٹس
قائد اعظمؒ کے فرمان کے مطابق یہ بات بھی نٖفاذِ اردو کے حق میں ہے اور اپنی تعبیر اور تفہیم میں نہایت اہمیت کی حامل ہے کہ بھارت نے اردو کو اپنے ملک سے نکالنے اور وہاں کے رہنے والے مسلمانوں کو پاکستانی مسلمانوں سے دور کرنے کے لئے دیس نکالا دے دیا ہے۔ اور اردو پر ہندی کو ترجیح دے کر مسلمانوں کے ہزار سالہ ماضی کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے۔ اگر ہم اپنے ملک میں قومی زبان کے طور پر اردو زبان کے نفاذ کو ممکن بنائیں گے، تو یہ صرف ہمارے لیے ہی نہیں بلکہ پورے برصغیر کے مسلمانوں کے لیے بھی تقویت کا باعث ہو گا۔
پاکستان کی ترقی کے لئے ضروری ہے کہ اس میں قومی زبان کا نفاذ ہو تاکہ زندگی کے مختلف شعبوں میں یک رنگی کی بدولت ایک ایسے طرز زندگی کو رواج دیا جا سکےجو مستقبل کی قدروں کو اجالنے اور اس کی تعبیر کو درخشاں کرنے میں معاون ثابت ہو سکے۔ قومی ترقی، زبان کی ترقی سے وابستہ ہوتی ہے۔ قوم کی یک رنگی اور اتحاد قومی زبان کی وساطت سے نکھرتا ہے اور سنورتا ہے۔اگر ملک میں قومی زبان کا نفاذ نہ ہو تو کوئی بھی قوم غیر زبان کے سہارے ترقی کے زینے طے نہیں کر سکتی ۔
قوتِ گویائی کی ضمانت:۔
الحمد اللہ پاکستان کے پاس قوتِ گویائی ہے اور اردو اس قوت گویائی کی ضمانت ہے۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ قائداعظمؒ کے فرامین کی روشنی میں اس زبان کے نٖفاذ کو عملی صورت دی جائے۔اردو بطور قومی زبان کے بارے میں قائداعظمؒ کے ڈھاکہ میں ارشادات پورے ملک کے لیے تحریک اور رہنما اصولوں کا درجہ رکھتے تھے۔ ان کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ملک کے تعلیمی، علمی اور ادبی حلقوں نے جوش و خروش کا مظاہرہ کیا۔
About Author:
Experienced Lecturer with a demonstrated history of working in the Computer Software industry. Skilled in HTML, CSS, JavaScript, PHP, C, C++, Java, ASP .NET, and MySQL. Strong information technology professional with BSCS (Hons) focused in Computer Science from Virtual University of Pakistan, Lahore.




